پروفیسر اے۔ایم۔ مولوی کے سفرنامہ "ماڈرن ایران" کا جائزہ
An Analysis of Professor A.M. Moulvi’s Travelogue Modern Iran
DOI:
https://doi.org/10.56276/tasdiq.v7i2.41Keywords:
Professor A.M. Moulvi, Modern Iran, Reza Shah Pahlavi, Syed Muhammad Has-san Bilgrami, Karnama-e-Pahlavi, TravelogueAbstract
The bilateral ties between Iran and the Subcontinent are multifaceted and deeply rooted, spanning centuries. Historically, travelers from both regions have explored and fostered mutual cultural and linguistic advancements. Notably, before partition, Professor A.M. Moulvi M.A., a Persian language teacher at Government College, University of Bombay, embarked on a journey to Iran. He was profoundly impressed by the country's rapid modernisation, which he observed in every aspect of Iranian life. In his book, "Modern Iran", which was published in English in 1938, Professor A.M. Moulvi praised the Iranian government, particularly Emperor Reza Shah Pahlavi, for his pivotal role in transforming the nation through wise leadership. He also commended the Iranian people for their courteous behaviour, which contributed to the country's swift progress.
The book was later translated into Urdu by Syed Muhammad Hassan Bilgrami, titled "Karnama-e-Pahlavi," two years after its initial publication. This article aims to highlight the significance of "Modern Iran" as a historical source on Iran's modern evolution and its literary importance as a captivating travelogue, providing valuable insights for readers.
Downloads
References
- معروف ایرانی ادیب اور ماہر لسانیات ڈاکٹر پرویز خانلری (1914ء-1990ء) نے فارسی زبان و ادب کے فروغ کے لیے سن 1965ء میں تہران میں" بنیاد فرھنگ ایران" کی بنیاد ڈالی جو آج کل " پژوھشگاہ علوم انسانی و مطالعات فرھنگی" کے نام سے مشہور ہے۔
- آغاز میں یہ ایک شعبہ تھا جو بعد میں تین الگ شعبہ جات شعبہ عربی، شعبہ فارسی، شعبہ اسلامیات کی صورت میں تشکیل پائے۔ https://ismailyusufcollegetest.mastersofterp.in/Department/Deptindex.aspx?page=a&ItemID=cgs&nDeptID=cacao
- اس سفرنامہ کا عنوان فارسی کے معروف شعر سے ماخوذ ہے: حیف در چشم زدن صحبتِ یار آخر شد/ رویِ گل سیر ندیدیم، بهار آخر شد۔
- سن 1950ءمیں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں شعبہ اردو نے "اردو دائرہ معارف اسلامیہ" کی بنیاد ڈالی۔ 1964ء سے 1989ء تک کے عرصہ میں 26 جلدیں تالیف ہوئیں ، آخری جلد اشاریہ ہے۔ بعد میں پہلی اور دوسری جلد کا تکلمہ بھی شائع ہوا؛ "تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ: حروف تہجی کی ترتیب پر، ایک عظیم موسوعہ علمی "۔ مجلس ادارت: محمود الحسن عارف، پہلی جلد، 2002ء ، دوسری جلد 2008ء۔
- اوری اینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں "تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند" کے اہم تحقیقی منصوبے کا آغاز 1965ء میں ہوا۔ سن 1972ء میں 16 جلدوں میں یہ کام مکمل ہوا اور شائع ہوا۔
- پروفیسر مقبول بیگ کی تالیفات: "ادب نامہء ایران "یعنی ادبیاتِ ایران کی مختصر تاریخ" (پہلی جلد:دورِ ہخامنشی سے دورِ قاچار تک، دوسری جلد: ہخامنشی سے قاچار تک۔ سن ِ اشاعت درج نہیں)/ "تاریخ ِ ایران "(مجلس ترقی ادب، لاہور، پہلی جلد: 1967ء، دوسری جلد: 1971ء) / "اردو لغت "(اردو سائنس بورڈ، لاہور، پہلی اشاعت: 1969ء)/ فارسی سے اردو ترجمہ :"سکینۃ الاولیاء "۔ تالیفِ داراشکوہ(شیروانی آفسٹ پرنٹرز،دہلی، 1971ء)/ "قواعدِ پنجابی" (پنجابی تحقیقاتی مرکز، 1973ء) ۔ "ارمغانِ عقیدت"( فارسی شعراء کے منتخب مناقب ۔ پہلی اشاعت کا سن درج نہیں۔ نظر ثا نی ڈاکٹر عبدالغنی، سن 1990ء، لاہور۔ )
- مقبول بیگ، بدخشانی، سرزمینِ حافظ و خیّام، غالب پبلشرز، لاہور، 1979ء: ص 15۔
۔ ضیاء الدین احمد، برنی، عظمت رفتہ، تعلیمی مرکز کراچی، 30 جولائی 1961،ص 331،332۔
- Dharawad ہندوستان کے صوبہ کرناٹک کے شمال میں واقع شہر۔
- https://www.kacd.ac.in/Departments/Urdu+and+Persian
- Roper Lethbridge, The Golden Book Of India, Sampson Low, Marston and Company, London, 1900, P xiii.
-Farhad Daftary, Ismaili Literature; A Bibliography of Sources and Studies, I.B. Tauris Publishers, in association with The Institute of Ismaili Studies, London, 2004: P 130-131.
- قاضی بن محمد مشہور بہ قاضی نعمان (283۔ 363 ہجری/ اسماعیلیہ کے بلندپایہ فقیہ۔ ان کی عربی تالیف: الھمۃ فی آداب اتباع الائمۃ۔
Jawad Muscati and A.M.Moulvi, Life and Lectures of the Grand Missionary Al-Muayyad-fid-Din al-Shirazi, The Ismailia Association West Pakistan, 1950. (Ismailia Association for Pakistan Series 2).
- Moulvi, Modern Iran, Shah Bahram Printing Press, Bombay, 1938 : P 184-185.
- Ibid: P 193.
۔ فرید بلگرامی، بلگرام کی شعری اور ادبی خدمات، جلد 1، نعمانی پرنٹنگ پریس ، لکھنؤ، 2020ء،ص 240۔
۔ محمد حسن، بلگرامی، کارنامہ پہلوی، نظامی پریس، لکھنؤ ،1940ء،دیباچہ، ص32۔
۔ ایضاً،دیباچہ، ص30۔
- " کارنامہ پہلوی" پروفیسر مولوی کی کتاب “Modern Iran” کا اردو ترجمہ ہے۔
- محمد حسن، بلگرامی، کارنامہ پہلوی، نظامی پریس، لکنو،1940ء،دیباچہ، ص 31۔
- Moulvi, Modern Iran, Shah Bahram Printing Press, Bombay, 1938.
- " اردی بہشت" ایرانی شمسی سال کا دوسرا مہینہ ہے ۔
- عبدالرحمن سیف آزاد (1882ء-1971ء) ایرانی روزنامہ نگار تھا جو کئی سال جرمنی اور ہندوستان میں مقیم رہا۔ اس نے ہندوستانی پارسیوں کی ایران میں ہجرت کے لیے کوشیش کیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں رضا شاہ کی حکومت کی تبلیغ کیا کرتا تھا۔ اس نے 1901ء میں جرمنی کے شہر برلن میں "جرمن اور مشرقی مصنوعات" کے نام سے عربی، فارسی، انگریزی، ترکی، ہندی اور جرمن زبان میں میگزین شائع کیا۔ تہران میں "ایران باستان" کے نام سے اخبار شائع کیا جو 1932ء سے 1941ء تک شائع ہوتا رہا۔ اس اخبار کا مقصد غیر ملکیوں بہ شمول دوسرے ممالک میں مقیم ایرانیوں اور بالخصوص ہندوستانی پارسیوں کو ایران کی سیاسی اور اقتصادی کیفیت سے آگاہی دینا تھا۔ سیف آزاد نے "سالار ھند" کے نام سے ایک میگزین فارسی، انگریزی اور گجراتی زبان میں بھی شائع کیا۔ ہندوستان کے عمومی و خصوصی کتاب خانوں سے مستفید رہا۔ فارسی زبان میں اس کی کتابوں میں سے ایک جس کا عنوان " ہندوستان میں جمہوریت اور آزادی" ہے جو 1950ء میں شائع ہوئی;محرابی ، معین الدین، سیف آزاد از پیک ِ سفارتِ آلمان تا روزنامہ نگاری، ما ہنامہ "جہان کتاب"، دِی 1394 شمسی، شمارہ 320،تہران۔
- "ش" ایران میں مروجہ شمسی کیلنڈر کو ظاہر کرتا ہے۔
- سَر ہُرمُز جی کاوس جی دین شاہ عدن والا(1827ء۔ 1900ء) بمبئی کے مشہور پارسی تاجر تھے:
https://zoroastrians.net/2020/06/08/the-cowasjee-dinshaw-collection-of-the-adenwalla-archive/
- امین الملک سر میرزا محمد اسماعیل(1883ء۔1959ء)۔ ان کے اجداد شیراز سے ہندوستان آئے تھے۔ مرزا اسماعیل بنگلور میں پیدا ہوئے اور دیوانِ میسور، جے پور اور حیدرآباد دکن رہے۔ انھوں نے سن 1952 ء میں ایران کا سفر کیا۔ انھوں نے اپنی انگریزی زبان میں My Public Life کے نام سے اپنی آپ بیتی بھی لکھی :
Mirza Ismail, My Public Life: Recollections and Reflections of Mirza Ismail, London, 1954.
- Browne, Edward Granville, A Literary History of Persia,1908, London.
- Sykes, P.M., A History of Persia, First Edition: 1915, London.
- John Malcom, The History of Persia, from the most early period to the present time: containing an account of the religion, government, usages, and character of the inhabitants of that kingdom, First Edition: 1815.
- Moulvi, Modern Iran, Shah Bahram Printing Press, Bombay, 1938 : P ii.
- رضا شاه پَہلوی (1878ء۔1944ء) ایران کے صوبہ مازندران کے سواد کوہ ضلع کے کسی قصبہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے سن 1925ء سے لے کر 1941ء تک ایران میں سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالی(25۔ اپریل 1926ء تاج پوشی)۔ ایران کے دورہ قاچار کے اواخر میں ، رضا خان ایک سپاہی تھا ان کی اعلیٰ کارکردگی کے صلہ میں ان کو "سردار" کے عہدہ تک پہنچادیا اور ان کو "سردار سپہ" کا لقب دیا گیا۔ رفتہ رفتہ حکومت کے امور میں وزیر جنگ اور اس کے بعد وزیر اعظم بنے اور آخر کار شہنشاہِ ایران کے مرتبہ پر فائز ہوئے۔
- پشوتن جی دوسا بھائی مارکر(1871ء۔1965ء) ہندوستان کےبڑے پارسی تاجر جنھوں نے بچوں کے لیے اسکول، یتیم خانہ و غیرہ بنوایا:
http://www.zoroastrian.org.uk/vohuman/Article/Marker,Peshotanji%20Dossabhai.htm
- Moulvi, Modern Iran, Shah Bahram Printing Press, Bombay, 1938 : P iii.
- شیراز کے نزدیک تاریخی مقام (تخت جمشید)۔
- Moulvi, Modern Iran, Shah Bahram Printing Press, Bombay, 1938 : P 202.
- Ibid: P 169.
- Ibid: P 217.
- Ibid: P 218.
- Ibid: P 5.
- علی خان ریاضی ( 1883ء-1947ء) سیاست دان، وزیرجنگ اور شیراز کے ناظمِ تعلیمات تھے۔
- Moulvi, Modern Iran, Shah Bahram Printing Press, Bombay, 1938: P 7.
- Ibid: P 26.
- Ibid: P 24.
- عیسی صدیق اعلم ( 1894ء-1978ء) اس وقت تہران یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی کے ڈین تھے بعد میں وزیر تعلیم رہے۔
- ڈاکٹر صادق رضازادہ شفق (1895ء-1971ء) تہران یونیورسٹی میں فارسی زبان و ادب کے استاد تھے، فارسی ادب کی تاریخ سے متعلق ان کی مشہور کتاب " تاریخ ادبیات ایران" پہلی مرتبہ 1941ء میں شائع ہوئی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن کے فارسی زبان کے استاد سید مبارزالدین رفعت نے اس کا اردو ترجمہ کیا جوپہلی بار 1955ء میں شائع ہوا اور بعد میں متعدد بار اس کی اشاعت ہوئی۔
- Moulvi, Modern Iran, Shah Bahram Printing Press, Bombay, 1938: P 31.
- Ibid: P 29.
- Ibid: P 203.
- Ibid: P 197.
- Ibid: P 33,34.
- Ibid: P 1.
- میرزادہ عشقی (1893ء-1924ء) ایران کے جدت پسند اور وطن پرست شاعروں میں سے ہیں۔ ان کا منظومہ " رستاخیز شهریاران ایران" بہت مشہور ہے۔
- عارف قزوینی (1882ء-1934ء) ایران کا مشہور وطن پرست شاعر۔
- میرزا تقی خان امیر کبیر (1807ء-1852ء) ایران کے وزیراعظم نے سال 1851ء میں تہران میں جدید علوم و فنون کی تعلیم و ترویج کے لیے "دارالفنون" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جو 1939 ء تک ایک یونیورسٹی کی طرز پر فعال تھا۔ معاصر ایران کی نامور شخصیات اس ادارہ سے فارغ التحصیل رہیں۔
- Moulvi, Modern Iran, Shah Bahram Printing Press, Bombay, 1938 : P 4.
- Ibid: P 9.
- Ibid: P 28.
- Ibid: P 4.
- Ibid: P 19.
- Ibid: P 13.
- Ibid: P 195.
- Ibid: P 97.
- Ibid: P 216.
- Ibid: P 8.
- Ibid: P 24.
- Ibid: P 26.
- Ibid: P 8.
- Ibid: P 25.
Downloads
Published
Issue
Section
License
Copyright (c) 2026 Dr. Sami Ullah (Author)

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.